قرار جاں
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - روحانی سکون۔ "قرار جاں کیسے پا سکے گا۔" ( ١٩٨٦ء، تماشا طلب آزار، ١٣٩ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ اسم 'قرار' کے ساتھ کسرہ اضافت لگانے کے بعد فارسی زبان سے ماخوذ اسم جاں ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٢٤ء میں "بانگ درا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - روحانی سکون۔ "قرار جاں کیسے پا سکے گا۔" ( ١٩٨٦ء، تماشا طلب آزار، ١٣٩ )
جنس: مذکر